پنجاب کے ایک گاؤں میں پلے بڑھے اشفاق چودھری آج فیصل آباد کی ایک ٹیکسٹائل فیکٹری میں مینیجر ہیں۔ بیالیس سال کی عمر میں جب انہیں ڈاکٹر نے وزن کم کرنے کی ہدایت دی تو وہ جم جانے کی سوچ سے گھبرا گئے۔ پھر انہوں نے وہی کیا جو بچپن میں گھر کے صحن میں کرتے تھے — کشتی کی چند بنیادی حرکات اور صبح کی سیر۔ چھ ماہ بعد ان کا وزن آٹھ کلو کم تھا۔

پاکستان کے پاس جسمانی سرگرمی کی ایک بھرپور روایت ہے جو جدید دور کی بھاگ دوڑ میں دب گئی ہے۔ کبڈی، کشتی اور صبح کی سیر — یہ نہ صرف ثقافتی ورثہ ہیں بلکہ طبی اعتبار سے بھی یہ وہ ورزشیں ہیں جو چالیس سے زائد عمر کے مردوں کے لیے خاص طور پر مناسب ہیں۔

کبڈی: قومی کھیل اور جسمانی فٹنس

کبڈی پاکستان اور برصغیر کا قدیم کھیل ہے۔ آزاد کشمیر سے لے کر سندھ کے دیہاتوں تک یہ کھیل کھیلا جاتا ہے۔ لیکن کبڈی صرف ایک کھیل نہیں — یہ ایک مکمل جسمانی تربیت ہے۔

کبڈی میں شامل جسمانی حرکات کا تجزیہ کیا جائے تو یہ کارڈیو، طاقت اور لچک — تینوں پہلوؤں کو ایک ساتھ کام میں لاتی ہے۔ تیز دوڑنا، اچانک رکنا، پکڑنا اور چھڑانا — یہ حرکات پوری جسمانی صلاحیت کو چیلنج کرتی ہیں۔

طبی نکتہ: کبڈی جیسے وقفے وقفے کی تیز و سست سرگرمی (Interval Training) کو جدید طب میں چربی جلانے کے لیے سب سے موثر طریقہ مانا جاتا ہے — خاص طور پر پیٹ کی چربی کو۔

چالیس کے بعد کبڈی کیسے کھیلیں

پیشہ وارانہ کبڈی کی سطح پر کھیلنا ضروری نہیں۔ محلے کے میدان میں دوستوں کے ساتھ ہلکی کبڈی — جہاں گرنا اور زخمی ہونے کا خطرہ کم ہو — چالیس سے زائد مردوں کے لیے بالکل مناسب ہے۔ ہفتے میں دو بار، تیس سے چالیس منٹ کا سیشن کافی ہے۔

کشتی (پہلوانی): قوت اور توازن

پاکستانی کشتی یا پہلوانی کی روایت صدیوں پرانی ہے۔ لاہور کے پرانے اکھاڑوں میں آج بھی یہ فن زندہ ہے۔ کشتی کی تربیت میں جو بنیادی حرکات ہیں — اسکواٹ، پش اپ، ریسلنگ گریپ — یہ تمام وہی حرکات ہیں جو آج کے جدید جم میں "فنکشنل ٹریننگ" کے نام سے سکھائی جاتی ہیں۔

ورزش کرتے ہوئے مرد

کشتی کا ایک اہم پہلو زمین سے جڑا ہونا ہے — یعنی کرسی یا مشین کے بغیر، صرف جسم کا وزن استعمال کرنا۔ طبی تحقیق کے مطابق اپنے جسمانی وزن سے کی جانے والی ورزش (Bodyweight Exercise) چالیس سے زائد عمر کے مردوں کے لیے جوڑوں پر کم بوجھ ڈالتی ہے اور چوٹ کا خطرہ بھی کم ہوتا ہے۔

گھر پر کشتی سے متاثر ورزشیں

  • دیوار کے سامنے کھڑے ہو کر اسکواٹ — گھٹنوں پر دباؤ کم
  • پشت کے بل لیٹ کر پیر اٹھانا — پیٹ کے عضلات مضبوط
  • کھڑے ہو کر کمر آگے جھکانا — کمر کی لچک بڑھاتا ہے
  • بیٹھ کر کندھے گھمانا — کندھوں اور گردن کی سختی دور

صبح کی سیر: سادہ ترین اور سب سے موثر

پاکستان میں "صبح کی سیر" ایک پرانی روایت ہے۔ بزرگ اسے "صحت کی چابی" کہتے تھے۔ آج طب نے اس بات کو سائنسی دلائل سے ثابت کیا ہے۔

روزانہ تیس منٹ کی تیز چہل قدمی:

  • بلڈ پریشر کو کنٹرول کرتی ہے
  • خون میں شوگر کی سطح کو منظم کرتی ہے
  • ہڈیوں کی کثافت برقرار رکھتی ہے
  • ذہنی تناؤ کم کرتی ہے
  • نیند بہتر کرتی ہے

کراچی میں کلفٹن بیچ، لاہور میں ماڈل ٹاؤن پارک، اسلام آباد میں مارگلہ ٹریلز — ہر شہر میں صبح کی سیر کے لیے مقامات موجود ہیں۔ اور جن کے گھر کے قریب پارک نہیں، وہ اپنی گلی میں بھی یہ معمول بنا سکتے ہیں۔

روایت کو دوبارہ اپنانے کی اہمیت

یہ ورزشیں کسی بیرونی ثقافت سے مستعار نہیں — یہ پاکستانی ہیں۔ ان کا ہمارے ماحول، موسم اور طرزِ زندگی سے گہرا تعلق ہے۔ جب ایک آدمی اپنے محلے کے میدان میں کبڈی کھیلتا ہے یا پارک میں صبح کی سیر کرتا ہے، تو وہ نہ صرف جسمانی صحت حاصل کرتا ہے بلکہ سماجی رابطہ بھی — جو خود ذہنی صحت کے لیے انتہائی ضروری ہے۔

جدید دور کا جم غلط نہیں۔ لیکن اگر آپ کے پاس وقت یا وسائل محدود ہیں تو پاکستانی روایت میں ہی بہترین حل موجود ہے۔

ذرائع و حوالہ جات