لاہور کے ایک نجی بینک میں سترہ سال سے کام کرنے والے اقبال احمد نے پچاس سال کی عمر میں محسوس کیا کہ وہ سیڑھیاں چڑھتے ہوئے سانس پھول جاتا ہے۔ چند سال پہلے تک وہ بغیر کسی تکلیف کے اپنے دفتر کی چوتھی منزل تک چلے جاتے تھے۔ ان جیسے لاکھوں پاکستانی مرد یہ سوال پوچھتے ہیں: جسم کو کیا ہو رہا ہے؟
اس کا جواب تین بنیادی عوامل میں ہے — ٹیسٹوسٹیرون کی کمی، عضلاتی ضیاع اور میٹابولزم کی سستی۔ یہ تینوں عوامل ایک ساتھ کام کرتے ہیں اور ان کا اثر چالیس کی عمر کے بعد واضح طور پر محسوس ہونے لگتا ہے۔
ٹیسٹوسٹیرون کا معاملہ
ٹیسٹوسٹیرون مردانہ جسم کا بنیادی ہارمون ہے۔ یہ نہ صرف جنسی صحت سے جڑا ہے بلکہ عضلاتی طاقت، ہڈیوں کی مضبوطی، توانائی کی سطح اور ذہنی یکسوئی کے لیے بھی ضروری ہے۔ طبی تحقیق کے مطابق تیس کی عمر کے بعد سے ٹیسٹوسٹیرون کی سطح ہر سال اوسطاً ایک فیصد کم ہوتی ہے۔
پاکستان میں یہ مسئلہ اس لیے زیادہ سنگین ہے کیونکہ ملک میں ذیابیطس کی شرح بہت زیادہ ہے — پاکستان دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جہاں ذیابیطس کے مریضوں کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔ ذیابیطس ٹیسٹوسٹیرون کی سطح کو مزید کم کرتا ہے، جس سے ایک ایسا چکر بنتا ہے جو توڑنا مشکل ہوتا ہے۔
سارکوپینیا: عضلاتی ضیاع
طبی اصطلاح میں اسے "سارکوپینیا" کہتے ہیں۔ یہ عضلاتی کمیت کا وہ قدرتی نقصان ہے جو تیس سال کی عمر کے بعد شروع ہوتا ہے۔ ہر دہائی میں اوسطاً تین سے پانچ فیصد عضلاتی کمیت کم ہو جاتی ہے۔
کراچی اور اسلام آباد کے شہری علاقوں میں جو مرد دفتری کام کرتے ہیں اور جسمانی محنت نہیں کرتے، ان میں یہ کمی زیادہ تیزی سے ہوتی ہے۔ عضلات نہ صرف طاقت دیتے ہیں بلکہ جسم میں شوگر کا توازن رکھنے میں بھی مدد کرتے ہیں۔ جب عضلات کم ہوں تو انسولین کی حساسیت بھی کم ہوتی ہے۔
میٹابولزم کیوں سست ہوتا ہے
چالیس کے بعد جسم کا "بیسل میٹابولک ریٹ" — یعنی آرام کی حالت میں جسم کتنی کیلوریاں جلاتا ہے — کم ہو جاتا ہے۔ اندازاً ہر دہائی میں پانچ سے دس فیصد کمی آتی ہے۔
اس کا عملی مطلب یہ ہے کہ وہی خوراک جو پہلے آسانی سے ہضم ہو جاتی تھی، اب چربی کی صورت میں جمع ہونے لگتی ہے — خاص طور پر پیٹ کے گرد۔ پاکستانی غذا میں گھی، میدہ اور میٹھے کی مقدار عام طور پر زیادہ ہوتی ہے، جو اس مسئلے کو بڑھاتی ہے۔
کیا کیا جا سکتا ہے
سب سے پہلی بات: یہ تبدیلیاں فطری ہیں لیکن ناقابلِ تبدیل نہیں۔ تحقیق سے ثابت ہے کہ باقاعدہ ورزش — خاص طور پر طاقت کی ورزش — ان تینوں مسائل کو کنٹرول کرنے میں مدد کرتی ہے۔
- ہفتے میں کم از کم تین بار وزن اٹھانے کی ورزش
- روزانہ تیس منٹ کی تیز چہل قدمی
- پروٹین سے بھرپور خوراک — انڈے، دالیں، مچھلی
- نیند کا خیال — سات سے آٹھ گھنٹے
- سال میں ایک بار ٹیسٹوسٹیرون اور شوگر کا معائنہ
لاہور میں قائم Shaukat Khanum Memorial Cancer Hospital کی غذائی ماہرین کے مطابق، چالیس سے زائد عمر کے مردوں کو اپنی روزانہ پروٹین کی مقدار پر خاص توجہ دینی چاہیے کیونکہ یہ عضلاتی ضیاع کو روکنے میں سب سے مؤثر غذائی اقدام ہے۔