کراچی کے ایک سافٹ ویئر کمپنی میں پراجیکٹ مینیجر رضا علی چالیس پانچ سال کے ہیں۔ وہ صبح نو بجے آفس آتے ہیں اور شام سات بجے گھر پہنچتے ہیں۔ اس دوران وہ اوسطاً نو گھنٹے کرسی پر بیٹھ کر کام کرتے ہیں۔ تین سال پہلے انہیں پہلی بار بلڈ پریشر کی تشخیص ہوئی۔ ڈاکٹر نے صرف دوائیں نہیں لکھیں — انہوں نے یہ بھی کہا: "آپ کو کم بیٹھنا ہوگا۔"
رضا کی کہانی پاکستان کے ہر بڑے شہر میں مل جائے گی۔ کراچی، لاہور، اسلام آباد — ان شہروں میں لاکھوں مرد ایسے دفاتر میں کام کرتے ہیں جہاں جسمانی حرکت نہ ہونے کے برابر ہے۔
بیٹھنا: نئی سگریٹ نوشی؟
صحت کے ماہرین نے ایک اصطلاح وضع کی ہے: "Sitting is the new smoking" — یعنی بیٹھنا آج کا سگریٹ نوشی ہے۔ یہ مبالغہ نہیں بلکہ ایک سنگین انتباہ ہے۔ National Institutes of Health کی تحقیق کے مطابق روزانہ چھ سے آٹھ گھنٹے سے زیادہ بیٹھنے سے قلبی امراض کا خطرہ تینتیس فیصد بڑھ جاتا ہے۔
دل اور خون کی نالیاں
جب آپ گھنٹوں بیٹھے رہتے ہیں تو ٹانگوں کے عضلات جو عام طور پر خون کو واپس دل تک پمپ کرنے میں مدد کرتے ہیں، غیر فعال ہو جاتے ہیں۔ اس سے خون کے لوتھڑے بننے کا خطرہ بڑھتا ہے۔ اس کے علاوہ لیپوپروٹین لائپیز — وہ انزائم جو خون میں چربی کو توڑتا ہے — بیٹھنے کی حالت میں کم فعال ہوتا ہے۔
چالیس کے بعد یہ خطرات اور بڑھ جاتے ہیں کیونکہ عمر کے ساتھ خود جسمانی تبدیلیاں آتی ہیں — شریانیں اکڑنے لگتی ہیں، میٹابولزم سست ہوتا ہے، اور ٹیسٹوسٹیرون کم ہوتا ہے۔ دفتری بیٹھک ان تبدیلیوں کو اور تیز کر دیتی ہے۔
کمر اور گردن: پاکستانی دفتری مردوں کا عام مسئلہ
کراچی کے ڈاکٹر اسلام آباد کے کلینکوں میں ایک ہی بات کہتے ہیں: چالیس سے پچاس سال کے مردوں میں کمر کے درد کی شکایات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ یہ براہ راست دفتری طرزِ زندگی سے جڑا ہے۔
کمپیوٹر اسکرین کی طرف جھکنا، کرسی پر غلط طریقے سے بیٹھنا اور گھنٹوں ایک ہی پوزیشن میں رہنا — یہ تمام عادات گردنی اور کمر کی تکلیف کا باعث بنتی ہیں۔ جب عضلات کمزور ہوں تو ریڑھ کی ہڈی کو اضافی بوجھ اٹھانا پڑتا ہے۔
ذہنی صحت پر اثر
جسمانی حرکت نہ ہونے سے دماغ میں "اینڈورفن" — خوشی کا ہارمون — کم پیدا ہوتا ہے۔ پاکستان میں ذہنی صحت کا موضوع ابھی تک کھل کر زیرِ بحث نہیں آتا، لیکن بہت سے مرد جو تھکاوٹ، چڑچڑاپن اور کام سے بوریت محسوس کرتے ہیں — ان میں سے اکثر کا مسئلہ دراصل جسمانی عدم سرگرمی ہے۔
دفتر میں رہتے ہوئے کیا ممکن ہے
- ہر ایک گھنٹے بعد کم از کم پانچ سے دس منٹ کھڑے ہوں اور تھوڑا چلیں
- لفٹ کی جگہ سیڑھیاں استعمال کریں — یہ چھوٹا قدم بڑا فرق ڈالتا ہے
- دوپہر کے کھانے کے بعد پندرہ منٹ کی چہل قدمی کریں
- میٹنگز جہاں ممکن ہو "چلتے پھرتے" کریں
- کرسی پر بیٹھتے وقت کمر سیدھی رکھیں — اسکرین آنکھوں کی سیدھ میں ہو
- ہر صبح دفتر آنے سے پہلے بیس منٹ کا پیدل سفر کریں — قریبی سٹاپ پر اتریں
کتنی ورزش کافی ہے؟
عالمی ادارہ صحت (WHO) کی سفارشات کے مطابق بالغ افراد کو ہفتے میں ایک سو پچاس سے تین سو منٹ کی معتدل جسمانی سرگرمی کرنی چاہیے۔ یعنی روزانہ تیس منٹ — یہ وہ کم سے کم حد ہے جو جسم کو فعال رکھتی ہے۔
تاہم ورزش کا مطلب لازماً جم نہیں۔ پاکستانی ثقافت میں صبح کی سیر، محلے کے میدان میں کرکٹ یا گھر میں ورزش — یہ سب موثر ہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ یہ کیا جائے، روزانہ، باقاعدگی سے۔